Chamber of Commerce discuss post CPEC strategy (Urdu)

چترال (محکم الدین) چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام چترال کے تمام بینکرز کا غیر معمولی اجلاس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہو ا ۔ اجلاس کا مقصد چترال اور خطے میں سی پیک کی وجہ سے مستقبل میں ہو نے والی ترقی سے فوائد حاصل کرنے کیلئے چترال کی سطح پر ایک مضبوط معاشی لائحہ عمل کی تیاری کو ممکن بنانا تھا ۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر چترال اور تمام بینکوں کے منیجرز کے علاوہ بزنس کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سرتاج احمد خان نے کہا ۔ کہ سی پیک نے جہاں معاشی ترقی کی نئی راہیں کھول دی ہیں وہاں چترال جیسے علاقے کے لوگ اگر خود کو اس تیز رفتار معاشی ترقی سے ہم آہنگ کرکے فوائد سمیٹنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔ تو مستقبل میں اس کے خوفناک نتائج نکل سکتے ہیں ۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہےکہ چترال میں بزنس کمیونٹی کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔ چترال چیمبر گذشتہ تین چار سالوں سے اس سلسلے میں سرگرم عمل ہے اور درکار کوائف پورے کرکے چیمبر رجسٹریشن کرنے میں
کامیاب ہو چکی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چترال کے کاروباری شعبے کو ترقی دینے کیلئے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا ، وزیر انڈسٹریز کے علاوہ سٹیٹ بینک سمیت تمام بینکوں کے صوبائی اور مرکزی ذمہ داروں سے ملاقات کی ہے ۔ اور ہماری کوشش ہے ۔ کہ کاروباری افراد اور بینکوں کے تعلق کو مضبوط تر بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم چترال کو ایک ایکنامک زون بنانا چاہتے ہیں ۔ اور ہماری کوشش ہوگی کہ ارندو کو ڈرائی پورٹ بنائیں ،جہاں قانونی دستاویزات کے ساتھ لوگ آمدورفت اور تجارت کرسکیں اور وسطی ایشائی مملک سے روابط بھی ہمارے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

سرتاج احمد خان نے کہا کہ اب کاروبار روایتی طریقے سے چلنے والا نہیں ۔ بلکہ اُ س کیلئے حقیقت پر مبنی تجارتی معلومات کا ریکارڈ ہونا ضروری ہیں ۔ انٹر نیشنل سطح پر کاروبار کیلئے ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو جوڑنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے پاس بیش بہا قدرتی وسائل پانی ، معدنیات و جنگلات و زراعت ، افرادی قوت ، ثقافت و سیاحت اور پُر امن ماحول موجود ہیں ۔ جن سے آج تک خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں کئے جا سکے ۔ آج اُن سے بھر پور استفادہ کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سمیڈا چترال میں ریجنل بزنس سنٹر قائم کرے گا ۔ جس سے کاروبار کے چھوٹے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ سرتاج احمد نے کہا ۔ کہ چترال کوٹیکس سے مزید 15سال کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے چھوٹ دی گئی ہے ۔ اس موقع پرحاضرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کی معاشی ترقی کیلئے یہ ضروری ہے ۔ کہ یہاں کے نوجوانوں کو کاروبار کے بارے میں تربیت دی جائے اور اُن کو کاروبار دوست بنایا جائے ۔اس سلسلے میں کامرس سے وابستہ طلبہ کی تربیت از حد ضروری ہے ۔ اجلاس میں بینکرز نے کہا ۔ کہ وہ اپنے کلائنٹس کو ہر ممکن سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاہم بعض قانونی دستاویزات کی تیاری میں لو گوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،خصوصا قرضوں کی فراہمی میں انتقال جائداد کے سلسلے میں سٹلمنٹ کی طرف سے دستاویزات
کی تیاری بہت زیادہ وقت طلب ہے ۔

اجلاس میں کمیونٹی میں قرض معافی کے غلط تاثر زائل کرنے ، بینکوں میں لاکرز اور فارن کرنسی کاؤنٹر کے قیام ، پرائز بانڈز کی عدم دستیابی سمیت چھوٹے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کے حصول کی راہ میں مشکلات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی ۔ اور چیمبر نے اس حوالے سے یقین دلایا ۔ کہ ان مسائل کے حل کے سلسلے میں بالائی حکام سے بات کی جائے گی ۔ اجلاس میں بینکینگ کے حوالے سے ایک ریکمنڈیشن کمیٹی بنائی گئی ۔ جس میں انعام اللہ منیجر اسلامک بینک ، علی نواز حبیب بینک ، سردار عالم سمیٹ بینک ، امیر افضل منیجر جے ایس بینک ، سبحان الدن مائیکرو فنانس امجد علی نیشنل بینک ، آفسر علی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر ، امجد احمد نیشنل بینک ، شیر حکیم انڈسٹریز ڈویلپمنٹ اور منظور احمد شامل ہیں ۔ اجلاس میں چیمبر کے چیف پیٹرن اتالیق حیدر علی شاہ ، سابق صدر حاجی محمد خان ، صدر تجار یونین چترال حبیب حسین مغل ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رحمت الہی ،دین محمد اور محمد ناصر بھی موجود تھے۔