چترالیوں کے کتنے محسن چترال ہیں؟

121
3

جناب ایڈیٹر صاحب’ آپ کے موقر جریدے کے ذریے میں اپنے ذہن میں اٹھنے والے استفسار کا اظہار کرنا چاہتا ہوں . کیا وجہ ہے کہ چترال ‘محسنین 14910523_1484947631531997_7457454036455509959_n چترال’ سے بھرا ہوا ہے. پہلے ذولفقار علی بھٹو محسن چترال بنے ‘پھر ضیاء الحق کی باری آئی’ پھر بینظر کو یہ خطاب دیا گیا اسکے بعد پرویز مشرف محسن چترال بنے’ ماضی قریب میں نواز شریف کے سر پی یہ تاج سجایا گیا اور حال ہی میں سابق وزیر علی حیدر ہوتی ہمارے نئے محسن چترال قرار دئیے گئے. آخر ہر کسی کو اپنا محسن قرار دینا کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہیے؟ میرے خیال میں تو یہ شدید احساس کمتری اور غلامانہ ذھنیت کی علامت ہے. کسی شخصیت کے اچھے کام کو سراہنا اپنی جگہ لیکن اس شخص کو فوری طور پر محسن چترال کا لقب دینا مرے نزدیک کسی طور درست نہیں اور مجھے اس انداز سوچ سے بڑی کوفت ہوتی ہے. بلخصوس اس کے برعکس جب کوئی چترالی بیچارا اپنی بساط کے مطابق چترالیوں کی خدمت کرتا ہے لیکن اسکے پاس اعلی عھدہ اور طاقت نہیں ہوتا تو ہم اسکو اور اسکی خدمات کو گھاس بھی نہیں ڈالتے .کیا یہ ہے ایک اعلی النسل قوم کی نشانی؟
اگر میں نے کسی بھآئی کو ناراض کیا ہو تو معذرت چاہتا ہوں . شاید میری سوچ میں کوئی نقص ہے 
فقط ‘ آپکا بھائی ، محمد ارشد’ چترال

3 COMMENTS

  1. آپ ٹھیک بول رہے ہیں محمد ارشد صاحب، آپ کی سوچ میں یقیناً نقص ہے. اگر چترالی کسی کے احسان کا اعتراف کرتے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے . کیا اس میں شک ہے کہ بھٹو نےعشر کا نظام ختم کر کے چترالیوں پر احسان کیا. اسی طرح مشرف نے ہمارا دیرینہ مطالبہ لواری ٹنل بنانے کی ابتدا کر کے ہم پر یقیناً احسان کیا. بہتر ہے آپ بھی احسان مندی کا سبق سیکھ لیں. چترال کی روایات پر تنقید نہ کریں

  2. Chitralis are one of the most peaceful and peace loving citizens of Pakistan and they deserve development projects funded by the federal and provincial governments. No leader (be it Bhutto or Musharaf or anyone else) has done any ‘favour’ to Chitral, the project initiated in Chitral during Bhutto or Musharaf or anyone else were funded by the exchequers money – not by the leaders from their own pockets. While it is good to acknowledge the projects and the leaders in whose time these were initiated, we are not and should never be indebted to anyone. As Pakistanis, we have right to have these projects. We must not forget that despite all the claims made by various political leaders in the past and at present, Chitral remains to be one of least funded districts in Pakistan. Thanks to the NGOs and civil society institutions which invested a lot in the development of Chitral and therefore we did not have to wait for mercies of our political leaders…

LEAVE A REPLY