حاجی ناصر علی شاہ
مرحوم
تحریر--
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
حاجی ناصر علی
شاہ مرحوم کو عرف عام میں’’بچگی اسقال ‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔
خیبر پختونخواہ ، کشمیر اورگلگت بلتستان کی تاریخ کے اہم واقعات کا وہ
عینی شاہد تھا ۔ خطے کی اہم شخصیات کو اُنہوں نے قریب سے دیکھا تھا ۔
پیر بخش خان ایڈوکیٹ ، ارباب عبد الغفور ، پیر صاحب مانکی شریف خان
بہادر علی قلی خان ، نواب محمد فرید خان ، نواب محمد سعید خان ،میاں گل
عبد الودود والی سوات ، نواب محمد شریف خان نواب دیر ، نواب محمد جہان
خان میر جمال خان میر آف ہنزہ ، راجہ محبوب علی خان ، راجہ محمد انور
خان ، راجہ عبدالرحمن خان ، راجہ مراد خان، راجہ حسین علی خان، اور
دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا حال سناتے ۔ تو دلچسپ واقعات کی
گویا پٹاری کھول دیاکرتے تھے۔ خدا بخشے مرحوم معراج الدین صاحب کمشنر
مردم شماری اور اتالیق حیدر علی شاہ کے ہمراہ میں نے ان کا انٹرویو کیا
۔ اظہر الدین نے ویڈیومیں اس کو محفوظ کیا ۔ معراج الدین مرحوم انتہائی
محتاط رویہ رکھتے تھے۔ اگلے دن اُنہوں نے لمبی لسٹ لاکر اظہر الدین کو
تھما دی کہ اس انٹرویو سے 120 مقامات پر جملے حذف کرو ۔ ہم نے پوچھا
کیون ؟ کہنے لگے ہمارا معاشرہ اتنا ترقی یافتہ نہیں ہے ۔ کہ ان باتوں
کو برداشت کرسکے ۔ ہم نے کہا 3 گھنٹے کی گفتگو کو 120 مقامات پر سنسر
کیا جائے ۔ تو باقی کیا رہ جائے گا؟ ان کی ہر گفتگو سنسر کرنے کے قابل
ہوتی تھی ۔ 1999 میں ایک سیاست دان قید ہوئے اگست 2000 ء میں حاجی ناصر
علی شاہ نے اخبار کو خط لکھا کہ قیدی بھائی کو ہرا پیغام پہچا ؤ ’’بھٹو
کی نقل نہ کرو وہ سیاستدان تھا تم تاجر اور دکاندار ہو۔ معافی مانگو ،
جیل سے باہر آجاؤ ، اسلامی تاریخ کے واقعات پر بھی وہ اس طرح کی ٹیڑھی
میڑھی گفتگو کرتے تھے۔ مثلاًوہ کہتے تھے کہ ابوجہل اپنے زمانے کا بہت
بڑا سیاست دان تھا۔ مسلمان ہونا اس کے لیے مشکل تھا۔ امام الانبیا ء
اور فخر موجودات محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت قبول کرنا ، اپنی سرداری کے
غرور کو تاجدار مدینہ ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔
اپنی فراست سے وہ جان چکا تھا کہ کلمہ توحید پڑھنے کے لیے اپنے نفس کے
غرور کرخاک میں ملانا ہوگا۔ اس لیے اس نے نامراد ہونا قبول کیا ۔ حاجی
ناصر علی شاہ 1918 میں پیدا ہوئے ۔ ان کاباپ میر گلاب شاہ ریاست شاہ
ریاست چترال کے حکمران ہزہانس شجاع الملک کا درباری تھا۔ اور معتمد ین
میں شمارہوتا تھا۔ ان کا داد ا سلطان شاہ، پر دادا فتح علی شاہ ریاستی
حکمرانوں کے خاص معتمد گذرے تھے ۔ فتح علی شاہ کا بھائی بہادر شاہ عہد
ہ اتالیقی پر فائز تھا ۔ ان کا بیٹا سرفراز شاہ بھی عہدہ اتالیقی پر
فائز ہوا۔ جاجی ناصر علی شاہ کی ابتدائی تعلیم روایتی طور پر مسجد مکتب
میں ہوئی ۔ قرآن ، حدیث ، فارسی ادب ، گلستان ، بوستان ، مثنوی ، یوسف
زلیخا وغیرہ انہوں نے 16 سال کی عمر میں پڑھی ابھی زیر تعلیم تھے ۔ کہ
1934 میں اعلحضر ت شجاع الملک کے خادم خاص مقرر ہوئے ۔ اس کے بعد
ہزہائی نس ناصر الملک ، ہزہائی نس مظفر الملک اور ہزہانس سیف الملک کے
دربار سے وابستہ رہے ۔ 1953 ء میں ریاست کے نظم ونسق کی تنظیم نو ہوئی
۔ تو رانا فرزند علی خان ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ چترال نے آپ کو اکسائز
انسپکٹر مقرر کیا ۔ 30 سال سرکاری ملازمت کے بعد اس عہدے سے ریٹائر
ہوئے ۔ دوران ملازمت آپ کو دی آئی پی شخصیات کی مہمانداری کاشرف حاصل
رہا ۔
شہزادہ خوش وقت الملک ، شہزادہ غلام جیلانی ، شہزادہ خوش احمد الملک
اور شہزادہ اسد الرحمن کے ساتھ آپ کے خصوصی مراسم تھے ۔ ان کی مجلسوں
میں بے تکلف گفتگو ہوئی تھی ۔ چترال کی تاریخ کے چیدہ چیدہ واقعات کے
آپ عینی شاہد تھے ۔ مشاہیر کے قلمی خطوط ، مشاہیر کی تصاویر ، ہندوستان
اور پاکستان کے اہم وسائل مجلے ، اخبارات اور چترال سے متعلق دستاویز ی
فلمیں آ پ کے پاس محفوظ تھیں ۔ آپ کے بھائی وزیر علی شاہ نے چترال کی
تاریخ کافارسی سے اُردو میں ترجمہ کیا۔ ان کی انگریز ی مضامین بھی بین
الاقوامی رسائل و جرائد میں شامل ہوئے ۔ ایک مضمون میں اُنہوں نے
خاندان روشتہ کے تاریخ پس منظر اور مشاہیر پر روشنی ڈالی ہے ۔ حاجی
ناصر علی شاہ بولنے کا ملکہ رکھتے تھے ۔ تاہم لکھنے کاذوق نہیں رکھتے
تھے۔ اگر وہ لکھتے تو خیبر پختونخواہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی تاریخ
کے اہم واقعات کو ضبظ تحریر میں لاکر امر کر دیتے ۔ حاجی ناصر علی شاہ
صوفیا کے ملامتی مسلک سے تعلق رکھتے تھے ۔ اہل بیت اطہار ؑ کے ساتھ گہر
ی عقیدت رکھتے تھے ۔ حج بیت اللہ اور عمرے پر جاتے ،تو مزارات پر حاضری
کولازمی گردانتے ۔ مسجد میں چند ے کی بات ہوتی ۔ اور لوگ 10,10 روپے
نکال کر چادر میں ڈالتے تو آ پ خا مو شی سے اُٹھتے ۔ اور چپکے سے
15,10ہزار وپے کا لفافہ بھیجدیتے ۔ عمر کے آخر ی ایام میں عمر ے کا خر
چہ مساجد اور مدارس پر خر چ کر تے تھے۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا
تھاکہ حاجی صا حب کے دل میں ایک مخیر شخصیت جھا نک رہی ہے۔ حا جی ناصر
علی شاہ اگر کسی تر قی یا فتہ معا شر ے میں ہو تے تو ان کی زند گی پر
دستاویزی فلمیں بنتیں۔ زرائع ابلا غ میں ان کے انٹر ویو نشر ہو تے اور
ان کے وسیع تجر بے سے استفادہ کیا جا تا مگر ہما رے ہا ں جو ہر قابل سے
استفادہ کر نے کا رواج نہیں ہے۔
مقدورہو تو خا ک سے پو چھو ں کہ اے لییم
وہ گنجہائے گراں ما یہ تو نے کیا کئے
---------------------------------------------------------