Meritocracy practiced by provincial govt appreciated (urdu) March 14, 2017

داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ
میرٹ کا شفاف نظام
ناظمین ،ایم پی ایز اور دیگر سیاسی اکابرین غصے سے لال پیلے ہو رہے ہیں ایلمنٹری اینڈ سکنڈری ایجوکیشن مردانہ کے دفتر میں 201 اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر تقرری کی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہو رہی تھی 201 نئے اساتذہ میں سے 183لوگ ایسے تھے جنکی سیاسی سفارش نہیں 18بندے وہ تھے جنکو سفارش کی ضرورت نہیں میرٹ ہی اتنا اونچا ہے کہ کسی کے دروازے پر جانے اور جوتے گھسانے کی حاجت نہیں ان میں عطائے الرحمن کی طرح خوش نویس اور پینٹر ،محمد عزیز اللہ کی طرح بہترین نعت خواں اور مقرر بھی ہیں ، محمد صغیر کی طرح نادار وبے نوا بھی ہیں جنکا خدا ہی اسرا ہے اگر سیاسی لوگوں کی مرضی ہوتی تو ان میں سے کوئی تقرر نامہ حاصل نہ کر سکتا تھا۔ کلاس فور اور کلرکوں کی بھرتی میں سیاستدانوں نے ظلم اور ناانصافی کی بھر پور کوشش کی حقدار کا حق مارنے پر بہت زور دیا اور بعض معاملات میں کامیاب بھی ہوئے عمران خان کی قیادت اور خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس پُر آشوب دور میں ٹیسٹ اور اکیڈمکس کو بنیاد بنا کر سیاسی مداخلت اور ناانصافی کا راستہ روکا گیا ہے جن محکموں نے اس پر عمل کیا ان میں ایلمنٹر ایند سکنڈری ایجوکیشن کا پہلا نمبر ہے اور صوبے میں سب سے زیادہ بھرتیاں بھی اسی محکمے میں ہوئی ہیں ملازمین کی سب سے زیادہ تعداد بھی اس محکمے ہیں چترال میں اس حوالے سے جو تقریب منعقد ہوئی اس تقریب کی سب سے یادگا ر بات یہ تھی کہ تقریب میں درویشانہ لباس میں ملبوس نوجوان محمد عزیز پر سوز آواز میں نعت شریف سنا کر حاضرین کی آنکھوں کو پُرنم اور ایمان تازہ کیا انکے لباس اور ان کی عمر کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ نعت شریف کے الفاظ پر اُن کی اتنی گرفت ہوگی آواز کے زیر و بم کے ساتھ دل سے دل تک راہ کرنے والا سوز و گداز پیدا کر سکیگا مگر جب اُن کی آواز بلند ہوئی تو محفل پر رفت طاری ہوگئی ۔
حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے
جو یاد مصطفیﷺ سے دل کو بہلا یا نہیں کرتے
تقر ر نامہ جاری کرنے کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ ان کی تقرری پی ایس ٹی پوسٹ پر گورنمنٹ پرائمیری سکول ریشن گو ل میں ہوئی تھی وہ طالب علم کتنے خوش نصیب ہونگے جنکو اتنا بلند پایہ اساتذہ ملے گا تقریب کے مہمان خصوصی نے اپنی تقریر میں محمد عزیز اللہ کی نعت سے شروع کی انہوں کے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کوخراج تحسین پیش کیا کہ سیاسی مداخلت ،ایم پی ایز ،اور ناظمین کی سفارش ،دھونس اور دھاندلی کے بغیر خالص میرٹ پراساتذہ کی بھرتی کا طریقہ کار وضع کر کے دیا اور افیسروں نے اس پر دیانت داری سے عمل کر کے دکھایا پرائمیر ی کے استاد کی کیا اہمیت ہے ؟ اس حوالے سے مہمان خصوصی نے ماوزے تنگ اور حسن البنا شہید کی مثالیں دیں دنوں پر ائمیر ی سکولوں کے اساتذہ تھے دونوں نے بڑی تحریکوں کی بنیادیں رکھ دیں پرائمیر ی استاد کس طرح طلباء کے مستقبل پراثر انداز ہوتا ہے ؟ مہمان حصوصی نے مثال دی ایک بڑے بینک کے زونل چیف انجینئر گل بہار نے ریڈیو پاکستان پشاور کو انٹرو یو دیتے ہوئے کہا کہ تیسری جماعت تک وہ سبق سے ما یوس تھا استاد کہا کرتا تھا پڑھ کر کیا کر و گے تم نالائق ہو ،تمہارے ماں باپ جاہل ہیں ،جاؤ بکریاں چراؤ ،ماں باپ کی خدمت کرو ،تیسری جماعت میں نیا استاد آیا اس کا نام نادرعزیز تھا اس نے ہمیں پڑھنا ،لکھنا ،بولنا اور جینا سکھایا وہ کہا کرتا تھا کہ خوب محنت سے پڑھو تم بڑے بڑے افیسربنو گے پھر اُس نے وہ ہمیں بتا کرتے تھے کہ تم محنت سے پڑھوگے تو سب سے آگے نکل جاوگے کوئی طاقتور ،تمہار ا راستہ نہیں روک سکے گا نادر عزیز کی نصیحت نے کام کر دکھایا اُس پرائمیری سکول کے لڑکوں نے انجینئرنگ ،میڈیکل کالجوں میں اعلیٰ نمبر لے لئے ،سی ایس ایس بھی کیا ،بڑ ے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے استاد نا اُمید نہیں کرتا ،اُمید دلاتا ہے ممولے کو شہباز سے لڑنے کا فن سکھاتا ہے ہائی سکول ایون کے پرنسپل احسان الحق ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر محمد ممتاز ،سلیکشن اینڈ پلیسمنٹ کمیٹی کے ممبر ضیاء الدین ،آئی ٹی پروفیشنل فاروق احمد اور وسیع الدین آکاش نے این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کی تقرری کے پورے طریقہ کار اور میرٹ کے پورے سسٹم پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ایک پوائنٹ کو حساب میں لیاگیا این ٹی ایس کے ساتھ الیڈمکس کے نمبروں کو کس فارمولے کے تحت شمار کیا گیا اور سکولوں کی ترجیحی فہرست میں امیدواروں کے نام کس طرح ڈالے گئے ؟ اگر باقاعدہ تقریب کے بغیر ایک ایک کر کے اساتذہ کے تقرر نامے ان کو بھیجے جاتے تو سسٹم کی اتنی خوبیوں کا شاید پتہ نہ لگتا باقاعدہ تقریب کے انعقاد سے سسٹم کی شفافیت پوری طرح عیاں ہوگئی تقرر نامہ حاصل کرنے والوں میں 139پی ایس ٹی 32سی ٹی ،13تھیالوجی ٹیچر ،10عربک ٹیچر ،8 فزیکل ایجوکشین ٹیچر ،6قاری اور3ڈراینگ ماسٹر بھر تی کئے گئے آنے والی کو ئی بھی حکو مت اس قسم کے شفاف سسٹم کو ختم نہیں کر سکیگی آئندہ کسی بھی ایم پی اے یا نا ظم کو اسا تذہ کی تقریری میں دھونس ، دھا ندالی اور من مانی کی جرت نہیں ہو گی۔میرٹ کا شفاف نظام لانا عمران خان اور پرویز خٹک کا یاد گار کارنامہ ہے۔

Share With Friends:

1 Comment

  • Haider Khan says:

    This has to be praised. This is the root cause of all the problems that we face today. Thank you PTI.

Comments are closed.